اہل بیت نیوز ایجنسی (ابنا) کے مطابق، یمن کی مسلح افواج نے کہا ہیکہ بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے سعودی عرب کے اندر مختلف اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے کہا کہ سعودی جارحیت کے جواب میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران چھ خصوصی فوجی کارروائیاں کی گئیں۔ ان کے مطابق، اس عرصے میں سعودی عرب نے یمن کے دارالحکومت صنعاء اور آزاد کرائے گئے صوبوں میں شہری اہداف پر 200 سے زائد فضائی اور میزائل حملے کیے، جن میں درجنوں افراد شہید اور زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔
یحییٰ سریع نے مزید کہا کہ کشیدگی میں اضافے کے آغاز سے اب تک یمن کے خلاف سعودی فضائی اور میزائل حملوں کی تعداد 2,700 سے تجاوز کر چکی ہے۔
یحییٰ سریع کے بیان کے مطابق، پہلی کارروائی میں سعودی عرب کے شہر ینبع میں واقع آرامکو کمپنی کو دو مرحلوں میں نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حملے درست نشانے پر لگے اور متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔
ان کے مطابق، دوسری کارروائی میں شیبہ آئل فیلڈ کو نشانہ بنایا گیا، جہاں میزائلوں یا دیگر ہتھیاروں کے براہِ راست اہداف پر لگنے سے آگ لگنے کا دعویٰ کیا گیا۔
یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا کہ تیسری کارروائی میں ریاض کے شاہ خالد ہوائی اڈے کو تین مرحلوں میں نشانہ بنایا گیا اور حملے درست اہداف پر لگے۔
یحییٰ سریع کے مطابق، چوتھی کارروائی میں ابہا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے، الحصن اور الرحمہ پہاڑوں پر سعودی افواج سے منسلک ریڈاروں اور خمیس مشیط کے فضائی اڈے کو تین مرحلوں میں نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ان حملوں سے متعلقہ اہداف کو نقصان پہنچا، ہوائی اڈے کی فضائی آمدورفت متاثر ہوئی اور فضائی اڈے کو بھی نقصان پہنچا۔
یحییٰ سریع نے بتایا کہ پانچویں کارروائی میں سعودی عرب کی خصوصی بحری افواج کے ایک کیمپ کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے دعوے کے مطابق، حملہ درست نشانے پر لگا اور سعودی اہلکاروں میں ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے۔
یمنی مسلح افواج کے ترجمان کے مطابق، چھٹی کارروائی میں بئر عسکر کے علاقے میں سعودی افواج کے ایک ریڈار کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ریڈار تباہ ہوگیا۔
یحییٰ سریع نے کہا کہ یمن جارحیت کا مقابلہ کرنے اور اس کا جواب دینے کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق، آئندہ کارروائیوں کا دائرہ وسیع کیا جاسکتا ہے اور حملوں میں شدت لائی جاسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یمن سعودی عرب کے اندر اہداف کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا اور ’’محاصرے کے جواب میں محاصرہ، اور کشیدگی کے جواب میں کشیدگی‘‘ کی حکمت عملی اپنائے گا۔ انہوں نے سعودی عرب سے وابستہ فورسز کے اجتماعات کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں یمن پر حملے رکوانے اور ملک کا محاصرہ ختم کرانے تک جاری رہیں گی۔
آپ کا تبصرہ